IslamicKit

Al-Quran

12 - يوسف

Yusuf

Joseph

Type: Meccan
Ayas: 111
Order: 53
Rukus: 12
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمـٰنِ الرَّحيمِ
الر ۚ تِلكَ ءايـٰتُ الكِتـٰبِ المُبينِ
1
یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں
 
 
إِنّا أَنزَلنـٰهُ قُرءٰنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُم تَعقِلونَ
2
بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو
 
 
نَحنُ نَقُصُّ عَلَيكَ أَحسَنَ القَصَصِ بِما أَوحَينا إِلَيكَ هـٰذَا القُرءانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبلِهِ لَمِنَ الغـٰفِلينَ
3
ہم تمہیں سب اچھا بیان سناتے ہیں اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی
 
 
إِذ قالَ يوسُفُ لِأَبيهِ يـٰأَبَتِ إِنّى رَأَيتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوكَبًا وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ رَأَيتُهُم لى سـٰجِدينَ
4
یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا
 
 
قالَ يـٰبُنَىَّ لا تَقصُص رُءياكَ عَلىٰ إِخوَتِكَ فَيَكيدوا لَكَ كَيدًا ۖ إِنَّ الشَّيطـٰنَ لِلإِنسـٰنِ عَدُوٌّ مُبينٌ
5
کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا وہ تیرے ساتھ کوئی چا ل چلیں گے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے
 
 
وَكَذٰلِكَ يَجتَبيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأويلِ الأَحاديثِ وَيُتِمُّ نِعمَتَهُ عَلَيكَ وَعَلىٰ ءالِ يَعقوبَ كَما أَتَمَّها عَلىٰ أَبَوَيكَ مِن قَبلُ إِبرٰهيمَ وَإِسحـٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَليمٌ حَكيمٌ
6
اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح تیرے پہلے دنوں باپ دادا ابراہیم ؑ اور اسحق ؑ پر پوری کی بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے
 
 
۞ لَقَد كانَ فى يوسُفَ وَإِخوَتِهِ ءايـٰتٌ لِلسّائِلينَ
7
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں
 
 
إِذ قالوا لَيوسُفُ وَأَخوهُ أَحَبُّ إِلىٰ أَبينا مِنّا وَنَحنُ عُصبَةٌ إِنَّ أَبانا لَفى ضَلـٰلٍ مُبينٍ
8
جب بولے کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں بیشک ہمارے باپ صراحةً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں
 
 
اقتُلوا يوسُفَ أَوِ اطرَحوهُ أَرضًا يَخلُ لَكُم وَجهُ أَبيكُم وَتَكونوا مِن بَعدِهِ قَومًا صـٰلِحينَ
9
یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا
 
 
قالَ قائِلٌ مِنهُم لا تَقتُلوا يوسُفَ وَأَلقوهُ فى غَيـٰبَتِ الجُبِّ يَلتَقِطهُ بَعضُ السَّيّارَةِ إِن كُنتُم فـٰعِلينَ
10
ان میں ایک کہنے والا بولا یوسف کو مارو نہیں اور اسے اندھے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آکر لے جائے اگر تمہیں کرنا ہے
 
 
قالوا يـٰأَبانا ما لَكَ لا تَأمَ۫نّا عَلىٰ يوسُفَ وَإِنّا لَهُ لَنـٰصِحونَ
11
بولے اے ہمارے باپ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معامل ہ میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں
 
 
أَرسِلهُ مَعَنا غَدًا يَرتَع وَيَلعَب وَإِنّا لَهُ لَحـٰفِظونَ
12
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے اور بیشک ہم اس کے نگہبان ہیں
 
 
قالَ إِنّى لَيَحزُنُنى أَن تَذهَبوا بِهِ وَأَخافُ أَن يَأكُلَهُ الذِّئبُ وَأَنتُم عَنهُ غـٰفِلونَ
13
بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ اسے لے جاؤ اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے اور تم اس سے بے خبر رہو
 
 
قالوا لَئِن أَكَلَهُ الذِّئبُ وَنَحنُ عُصبَةٌ إِنّا إِذًا لَخـٰسِرونَ
14
بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں
 
 
فَلَمّا ذَهَبوا بِهِ وَأَجمَعوا أَن يَجعَلوهُ فى غَيـٰبَتِ الجُبِّ ۚ وَأَوحَينا إِلَيهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمرِهِم هـٰذا وَهُم لا يَشعُرونَ
15
پھر جب اسے لے گئے اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اسے وحی بھیجی کہ ضرور تو انہیں ان کا یہ کام جتادے گا ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے
 
 
وَجاءو أَباهُم عِشاءً يَبكونَ
16
اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
 
 
قالوا يـٰأَبانا إِنّا ذَهَبنا نَستَبِقُ وَتَرَكنا يوسُفَ عِندَ مَتـٰعِنا فَأَكَلَهُ الذِّئبُ ۖ وَما أَنتَ بِمُؤمِنٍ لَنا وَلَو كُنّا صـٰدِقينَ
17
بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں
 
 
وَجاءو عَلىٰ قَميصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قالَ بَل سَوَّلَت لَكُم أَنفُسُكُم أَمرًا ۖ فَصَبرٌ جَميلٌ ۖ وَاللَّهُ المُستَعانُ عَلىٰ ما تَصِفونَ
18
اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے تو صبر اچھا، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتارہے ہو
 
 
وَجاءَت سَيّارَةٌ فَأَرسَلوا وارِدَهُم فَأَدلىٰ دَلوَهُ ۖ قالَ يـٰبُشرىٰ هـٰذا غُلـٰمٌ ۚ وَأَسَرّوهُ بِضـٰعَةً ۚ وَاللَّهُ عَليمٌ بِما يَعمَلونَ
19
اور ایک قافلہ آیا انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈال بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں
 
 
وَشَرَوهُ بِثَمَنٍ بَخسٍ دَرٰهِمَ مَعدودَةٍ وَكانوا فيهِ مِنَ الزّٰهِدينَ
20
اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی
 
 
وَقالَ الَّذِى اشتَرىٰهُ مِن مِصرَ لِامرَأَتِهِ أَكرِمى مَثوىٰهُ عَسىٰ أَن يَنفَعَنا أَو نَتَّخِذَهُ وَلَدًا ۚ وَكَذٰلِكَ مَكَّنّا لِيوسُفَ فِى الأَرضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأويلِ الأَحاديثِ ۚ وَاللَّهُ غالِبٌ عَلىٰ أَمرِهِ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ
21
اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا انہیں عزت سے رکھو شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے یا ان کو ہم بیٹا بنالیں اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کا ٹھکانا) دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں ۰ف۵۳) اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے
 
 
وَلَمّا بَلَغَ أَشُدَّهُ ءاتَينـٰهُ حُكمًا وَعِلمًا ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ
22
اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو
 
 
وَرٰوَدَتهُ الَّتى هُوَ فى بَيتِها عَن نَفسِهِ وَغَلَّقَتِ الأَبوٰبَ وَقالَت هَيتَ لَكَ ۚ قالَ مَعاذَ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ رَبّى أَحسَنَ مَثواىَ ۖ إِنَّهُ لا يُفلِحُ الظّـٰلِمونَ
23
اور وہ جس عورت کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے اور دروازے سب بند کردیے اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں کہا اللہ کی پناہ وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا بیشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا
 
 
وَلَقَد هَمَّت بِهِ ۖ وَهَمَّ بِها لَولا أَن رَءا بُرهـٰنَ رَبِّهِ ۚ كَذٰلِكَ لِنَصرِفَ عَنهُ السّوءَ وَالفَحشاءَ ۚ إِنَّهُ مِن عِبادِنَا المُخلَصينَ
24
اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے
 
 
وَاستَبَقَا البابَ وَقَدَّت قَميصَهُ مِن دُبُرٍ وَأَلفَيا سَيِّدَها لَدَا البابِ ۚ قالَت ما جَزاءُ مَن أَرادَ بِأَهلِكَ سوءًا إِلّا أَن يُسجَنَ أَو عَذابٌ أَليمٌ
25
اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں دروازے کے پاس ملا بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار
 
 
قالَ هِىَ رٰوَدَتنى عَن نَفسى ۚ وَشَهِدَ شاهِدٌ مِن أَهلِها إِن كانَ قَميصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَت وَهُوَ مِنَ الكـٰذِبينَ
26
کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر ان کا کر ُتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا
 
 
وَإِن كانَ قَميصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَت وَهُوَ مِنَ الصّـٰدِقينَ
27
اور اگر ان کا کر ُتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے
 
 
فَلَمّا رَءا قَميصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ قالَ إِنَّهُ مِن كَيدِكُنَّ ۖ إِنَّ كَيدَكُنَّ عَظيمٌ
28
پھر جب عزیز نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چرا دیکھا بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر (فریب) ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب) بڑا ہے
 
 
يوسُفُ أَعرِض عَن هـٰذا ۚ وَاستَغفِرى لِذَنبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الخاطِـٔينَ
29
اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ بیشک تو خطاواروں میں ہے
 
 
۞ وَقالَ نِسوَةٌ فِى المَدينَةِ امرَأَتُ العَزيزِ تُرٰوِدُ فَتىٰها عَن نَفسِهِ ۖ قَد شَغَفَها حُبًّا ۖ إِنّا لَنَرىٰها فى ضَلـٰلٍ مُبينٍ
30
اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہ ے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی (سماگئی) ہے ہم تو اسے صر یح خود رفتہ پاتے ہیں
 
 
فَلَمّا سَمِعَت بِمَكرِهِنَّ أَرسَلَت إِلَيهِنَّ وَأَعتَدَت لَهُنَّ مُتَّكَـًٔا وَءاتَت كُلَّ وٰحِدَةٍ مِنهُنَّ سِكّينًا وَقالَتِ اخرُج عَلَيهِنَّ ۖ فَلَمّا رَأَينَهُ أَكبَرنَهُ وَقَطَّعنَ أَيدِيَهُنَّ وَقُلنَ حـٰشَ لِلَّهِ ما هـٰذا بَشَرًا إِن هـٰذا إِلّا مَلَكٌ كَريمٌ
31
تو جب زلیخا نے ان کا چرچا سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دی اور یوسف سے کہا ان پر نکل آؤ جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنس بشر سے نہیں یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ
 
 
قالَت فَذٰلِكُنَّ الَّذى لُمتُنَّنى فيهِ ۖ وَلَقَد رٰوَدتُهُ عَن نَفسِهِ فَاستَعصَمَ ۖ وَلَئِن لَم يَفعَل ما ءامُرُهُ لَيُسجَنَنَّ وَلَيَكونًا مِنَ الصّـٰغِرينَ
32
زلیخا نے کہا تو يہ ہیں وہ جن پر مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچا یا اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے
 
 
قالَ رَبِّ السِّجنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمّا يَدعونَنى إِلَيهِ ۖ وَإِلّا تَصرِف عَنّى كَيدَهُنَّ أَصبُ إِلَيهِنَّ وَأَكُن مِنَ الجـٰهِلينَ
33
یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا
 
 
فَاستَجابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنهُ كَيدَهُنَّ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ
34
تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا، بیشک وہی سنتا جانتا ہے
 
 
ثُمَّ بَدا لَهُم مِن بَعدِ ما رَأَوُا الـٔايـٰتِ لَيَسجُنُنَّهُ حَتّىٰ حينٍ
35
پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں
 
 
وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجنَ فَتَيانِ ۖ قالَ أَحَدُهُما إِنّى أَرىٰنى أَعصِرُ خَمرًا ۖ وَقالَ الـٔاخَرُ إِنّى أَرىٰنى أَحمِلُ فَوقَ رَأسى خُبزًا تَأكُلُ الطَّيرُ مِنهُ ۖ نَبِّئنا بِتَأويلِهِ ۖ إِنّا نَرىٰكَ مِنَ المُحسِنينَ
36
اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے ان میں ایک بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتایے، بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں
 
 
قالَ لا يَأتيكُما طَعامٌ تُرزَقانِهِ إِلّا نَبَّأتُكُما بِتَأويلِهِ قَبلَ أَن يَأتِيَكُما ۚ ذٰلِكُما مِمّا عَلَّمَنى رَبّى ۚ إِنّى تَرَكتُ مِلَّةَ قَومٍ لا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَهُم بِالـٔاخِرَةِ هُم كـٰفِرونَ
37
یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں
 
 
وَاتَّبَعتُ مِلَّةَ ءاباءى إِبرٰهيمَ وَإِسحـٰقَ وَيَعقوبَ ۚ ما كانَ لَنا أَن نُشرِكَ بِاللَّهِ مِن شَىءٍ ۚ ذٰلِكَ مِن فَضلِ اللَّهِ عَلَينا وَعَلَى النّاسِ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَشكُرونَ
38
اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم ؑ اور اسحق ؑ اور یعقوب کا دین اختیار کیا ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں، یہ اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
 
 
يـٰصـٰحِبَىِ السِّجنِ ءَأَربابٌ مُتَفَرِّقونَ خَيرٌ أَمِ اللَّهُ الوٰحِدُ القَهّارُ
39
اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب
 
 
ما تَعبُدونَ مِن دونِهِ إِلّا أَسماءً سَمَّيتُموها أَنتُم وَءاباؤُكُم ما أَنزَلَ اللَّهُ بِها مِن سُلطـٰنٍ ۚ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ ۚ ذٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ
40
تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام (فرضی نام) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو یہ سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
 
 
يـٰصـٰحِبَىِ السِّجنِ أَمّا أَحَدُكُما فَيَسقى رَبَّهُ خَمرًا ۖ وَأَمَّا الـٔاخَرُ فَيُصلَبُ فَتَأكُلُ الطَّيرُ مِن رَأسِهِ ۚ قُضِىَ الأَمرُ الَّذى فيهِ تَستَفتِيانِ
41
اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ) کو شراب پلائے گا رہا دوسرا وہ سو ُلی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے
 
 
وَقالَ لِلَّذى ظَنَّ أَنَّهُ ناجٍ مِنهُمَا اذكُرنى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسىٰهُ الشَّيطـٰنُ ذِكرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِى السِّجنِ بِضعَ سِنينَ
42
اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا
 
 
وَقالَ المَلِكُ إِنّى أَرىٰ سَبعَ بَقَرٰتٍ سِمانٍ يَأكُلُهُنَّ سَبعٌ عِجافٌ وَسَبعَ سُنبُلـٰتٍ خُضرٍ وَأُخَرَ يابِسـٰتٍ ۖ يـٰأَيُّهَا المَلَأُ أَفتونى فى رُءيـٰىَ إِن كُنتُم لِلرُّءيا تَعبُرونَ
43
اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انہیں سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی اے درباریو! میرے خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہو
 
 
قالوا أَضغـٰثُ أَحلـٰمٍ ۖ وَما نَحنُ بِتَأويلِ الأَحلـٰمِ بِعـٰلِمينَ
44
بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے
 
 
وَقالَ الَّذى نَجا مِنهُما وَادَّكَرَ بَعدَ أُمَّةٍ أَنا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأويلِهِ فَأَرسِلونِ
45
اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو
 
 
يوسُفُ أَيُّهَا الصِّدّيقُ أَفتِنا فى سَبعِ بَقَرٰتٍ سِمانٍ يَأكُلُهُنَّ سَبعٌ عِجافٌ وَسَبعِ سُنبُلـٰتٍ خُضرٍ وَأُخَرَ يابِسـٰتٍ لَعَلّى أَرجِعُ إِلَى النّاسِ لَعَلَّهُم يَعلَمونَ
46
اے یوسف! اے صدیق! ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں
 
 
قالَ تَزرَعونَ سَبعَ سِنينَ دَأَبًا فَما حَصَدتُم فَذَروهُ فى سُنبُلِهِ إِلّا قَليلًا مِمّا تَأكُلونَ
47
کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگارتار تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو مگر تھوڑا جتنا کھالو
 
 
ثُمَّ يَأتى مِن بَعدِ ذٰلِكَ سَبعٌ شِدادٌ يَأكُلنَ ما قَدَّمتُم لَهُنَّ إِلّا قَليلًا مِمّا تُحصِنونَ
48
پھر اس کے بعد سات برس کرّے (سخت تنگی والے) آئیں گے کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھا تھا مگر تھوڑا جو بچالو
 
 
ثُمَّ يَأتى مِن بَعدِ ذٰلِكَ عامٌ فيهِ يُغاثُ النّاسُ وَفيهِ يَعصِرونَ
49
پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے
 
 
وَقالَ المَلِكُ ائتونى بِهِ ۖ فَلَمّا جاءَهُ الرَّسولُ قالَ ارجِع إِلىٰ رَبِّكَ فَسـَٔلهُ ما بالُ النِّسوَةِ الّـٰتى قَطَّعنَ أَيدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبّى بِكَيدِهِنَّ عَليمٌ
50
اور بادشاہ بولا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ کیا حال ہے اور عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے
 
 
قالَ ما خَطبُكُنَّ إِذ رٰوَدتُنَّ يوسُفَ عَن نَفسِهِ ۚ قُلنَ حـٰشَ لِلَّهِ ما عَلِمنا عَلَيهِ مِن سوءٍ ۚ قالَتِ امرَأَتُ العَزيزِ الـٔـٰنَ حَصحَصَ الحَقُّ أَنا۠ رٰوَدتُهُ عَن نَفسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصّـٰدِقينَ
51
بادشاہ نے کہا اے عورتو! تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا، بولیں اللہ کو پاکی ہے ہم نے ان میں کوئی بدی نہیں پائی عزیز کی عورت بولی اب اصلی بات کھل گئی، میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تھا اور وہ بیشک سچے ہیں
 
 
ذٰلِكَ لِيَعلَمَ أَنّى لَم أَخُنهُ بِالغَيبِ وَأَنَّ اللَّهَ لا يَهدى كَيدَ الخائِنينَ
52
یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا
 
 
۞ وَما أُبَرِّئُ نَفسى ۚ إِنَّ النَّفسَ لَأَمّارَةٌ بِالسّوءِ إِلّا ما رَحِمَ رَبّى ۚ إِنَّ رَبّى غَفورٌ رَحيمٌ
53
اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے
 
 
وَقالَ المَلِكُ ائتونى بِهِ أَستَخلِصهُ لِنَفسى ۖ فَلَمّا كَلَّمَهُ قالَ إِنَّكَ اليَومَ لَدَينا مَكينٌ أَمينٌ
54
اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لیے چن لوں پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں
 
 
قالَ اجعَلنى عَلىٰ خَزائِنِ الأَرضِ ۖ إِنّى حَفيظٌ عَليمٌ
55
یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں
 
 
وَكَذٰلِكَ مَكَّنّا لِيوسُفَ فِى الأَرضِ يَتَبَوَّأُ مِنها حَيثُ يَشاءُ ۚ نُصيبُ بِرَحمَتِنا مَن نَشاءُ ۖ وَلا نُضيعُ أَجرَ المُحسِنينَ
56
اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے ہم اپنی رحمت جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ (اَجر) ضائع نہیں کرتے
 
 
وَلَأَجرُ الـٔاخِرَةِ خَيرٌ لِلَّذينَ ءامَنوا وَكانوا يَتَّقونَ
57
اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے
 
 
وَجاءَ إِخوَةُ يوسُفَ فَدَخَلوا عَلَيهِ فَعَرَفَهُم وَهُم لَهُ مُنكِرونَ
58
اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انہیں پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے
 
 
وَلَمّا جَهَّزَهُم بِجَهازِهِم قالَ ائتونى بِأَخٍ لَكُم مِن أَبيكُم ۚ أَلا تَرَونَ أَنّى أوفِى الكَيلَ وَأَنا۠ خَيرُ المُنزِلينَ
59
اور جب ان کا سامان مہیا کردیا کہ اپنا سوتیلا بھائی میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں
 
 
فَإِن لَم تَأتونى بِهِ فَلا كَيلَ لَكُم عِندى وَلا تَقرَبونِ
60
پھر اگر اسے لیکر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لیے میرے یہاں ماپ نہیں اور میرے پاس نہ پھٹکنا
 
 
قالوا سَنُرٰوِدُ عَنهُ أَباهُ وَإِنّا لَفـٰعِلونَ
61
بولے ہم اس کی خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہمیں یہ ضرور کرنا
 
 
وَقالَ لِفِتيـٰنِهِ اجعَلوا بِضـٰعَتَهُم فى رِحالِهِم لَعَلَّهُم يَعرِفونَها إِذَا انقَلَبوا إِلىٰ أَهلِهِم لَعَلَّهُم يَرجِعونَ
62
اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خورجیوں میں رکھ دو شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں شاید وہ واپس آئیں
 
 
فَلَمّا رَجَعوا إِلىٰ أَبيهِم قالوا يـٰأَبانا مُنِعَ مِنَّا الكَيلُ فَأَرسِل مَعَنا أَخانا نَكتَل وَإِنّا لَهُ لَحـٰفِظونَ
63
پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے
 
 
قالَ هَل ءامَنُكُم عَلَيهِ إِلّا كَما أَمِنتُكُم عَلىٰ أَخيهِ مِن قَبلُ ۖ فَاللَّهُ خَيرٌ حـٰفِظًا ۖ وَهُوَ أَرحَمُ الرّٰحِمينَ
64
کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان
 
 
وَلَمّا فَتَحوا مَتـٰعَهُم وَجَدوا بِضـٰعَتَهُم رُدَّت إِلَيهِم ۖ قالوا يـٰأَبانا ما نَبغى ۖ هـٰذِهِ بِضـٰعَتُنا رُدَّت إِلَينا ۖ وَنَميرُ أَهلَنا وَنَحفَظُ أَخانا وَنَزدادُ كَيلَ بَعيرٍ ۖ ذٰلِكَ كَيلٌ يَسيرٌ
65
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے، بولے اے ہمارے باپ اب اور کیا چاہیں، یہ ہے ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں، یہ دنیا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں
 
 
قالَ لَن أُرسِلَهُ مَعَكُم حَتّىٰ تُؤتونِ مَوثِقًا مِنَ اللَّهِ لَتَأتُنَّنى بِهِ إِلّا أَن يُحاطَ بِكُم ۖ فَلَمّا ءاتَوهُ مَوثِقَهُم قالَ اللَّهُ عَلىٰ ما نَقولُ وَكيلٌ
66
کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو کہ ضرور اسے لے کر آ ؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں
 
 
وَقالَ يـٰبَنِىَّ لا تَدخُلوا مِن بابٍ وٰحِدٍ وَادخُلوا مِن أَبوٰبٍ مُتَفَرِّقَةٍ ۖ وَما أُغنى عَنكُم مِنَ اللَّهِ مِن شَىءٍ ۖ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۖ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ ۖ وَعَلَيهِ فَليَتَوَكَّلِ المُتَوَكِّلونَ
67
اور کہا اے میرے بیٹوں! ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا حکم تو سب اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے
 
 
وَلَمّا دَخَلوا مِن حَيثُ أَمَرَهُم أَبوهُم ما كانَ يُغنى عَنهُم مِنَ اللَّهِ مِن شَىءٍ إِلّا حاجَةً فى نَفسِ يَعقوبَ قَضىٰها ۚ وَإِنَّهُ لَذو عِلمٍ لِما عَلَّمنـٰهُ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ
68
اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا وہ کچھ انہیں کچھ انہیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی، اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے
 
 
وَلَمّا دَخَلوا عَلىٰ يوسُفَ ءاوىٰ إِلَيهِ أَخاهُ ۖ قالَ إِنّى أَنا۠ أَخوكَ فَلا تَبتَئِس بِما كانوا يَعمَلونَ
69
اور جب وہ یوسف کے پاس گئے اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا
 
 
فَلَمّا جَهَّزَهُم بِجَهازِهِم جَعَلَ السِّقايَةَ فى رَحلِ أَخيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا العيرُ إِنَّكُم لَسـٰرِقونَ
70
پھر جب ان کا سامان مہیا کردیا پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بیشک تم چور ہو
 
 
قالوا وَأَقبَلوا عَلَيهِم ماذا تَفقِدونَ
71
بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تم کیا نہیں پاتے
 
 
قالوا نَفقِدُ صُواعَ المَلِكِ وَلِمَن جاءَ بِهِ حِملُ بَعيرٍ وَأَنا۠ بِهِ زَعيمٌ
72
بولے، بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو اسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں
 
 
قالوا تَاللَّهِ لَقَد عَلِمتُم ما جِئنا لِنُفسِدَ فِى الأَرضِ وَما كُنّا سـٰرِقينَ
73
بولے خدا کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہ آئے اور نہ ہم چور ہیں
 
 
قالوا فَما جَزٰؤُهُ إِن كُنتُم كـٰذِبينَ
74
بولے پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے ہو
 
 
قالوا جَزٰؤُهُ مَن وُجِدَ فى رَحلِهِ فَهُوَ جَزٰؤُهُ ۚ كَذٰلِكَ نَجزِى الظّـٰلِمينَ
75
بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے
 
 
فَبَدَأَ بِأَوعِيَتِهِم قَبلَ وِعاءِ أَخيهِ ثُمَّ استَخرَجَها مِن وِعاءِ أَخيهِ ۚ كَذٰلِكَ كِدنا لِيوسُفَ ۖ ما كانَ لِيَأخُذَ أَخاهُ فى دينِ المَلِكِ إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ ۚ نَرفَعُ دَرَجـٰتٍ مَن نَشاءُ ۗ وَفَوقَ كُلِّ ذى عِلمٍ عَليمٌ
76
تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے مگر یہ کہ خدا چاہے ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں اور ہر علم والے اوپر ایک علم والا ہے
 
 
۞ قالوا إِن يَسرِق فَقَد سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِن قَبلُ ۚ فَأَسَرَّها يوسُفُ فى نَفسِهِ وَلَم يُبدِها لَهُم ۚ قالَ أَنتُم شَرٌّ مَكانًا ۖ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما تَصِفونَ
77
بھائی بولے اگر یہ چوری کرے تو بیشک اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی، جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو
 
 
قالوا يـٰأَيُّهَا العَزيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيخًا كَبيرًا فَخُذ أَحَدَنا مَكانَهُ ۖ إِنّا نَرىٰكَ مِنَ المُحسِنينَ
78
بولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو، بیشک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں
 
 
قالَ مَعاذَ اللَّهِ أَن نَأخُذَ إِلّا مَن وَجَدنا مَتـٰعَنا عِندَهُ إِنّا إِذًا لَظـٰلِمونَ
79
کہا خدا کی پناہ کہ ہم میں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا جب تو ہم ظالم ہوں گے
 
 
فَلَمَّا استَيـَٔسوا مِنهُ خَلَصوا نَجِيًّا ۖ قالَ كَبيرُهُم أَلَم تَعلَموا أَنَّ أَباكُم قَد أَخَذَ عَلَيكُم مَوثِقًا مِنَ اللَّهِ وَمِن قَبلُ ما فَرَّطتُم فى يوسُفَ ۖ فَلَن أَبرَحَ الأَرضَ حَتّىٰ يَأذَنَ لى أَبى أَو يَحكُمَ اللَّهُ لى ۖ وَهُوَ خَيرُ الحـٰكِمينَ
80
پھر جب اس سے نا امید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے، ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے اور اس کا حکم سب سے بہتر
 
 
ارجِعوا إِلىٰ أَبيكُم فَقولوا يـٰأَبانا إِنَّ ابنَكَ سَرَقَ وَما شَهِدنا إِلّا بِما عَلِمنا وَما كُنّا لِلغَيبِ حـٰفِظينَ
81
اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے
 
 
وَسـَٔلِ القَريَةَ الَّتى كُنّا فيها وَالعيرَ الَّتى أَقبَلنا فيها ۖ وَإِنّا لَصـٰدِقونَ
82
اور اس بستی سے پوچھ دیکھئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے، اور ہم بیشک سچے ہیں
 
 
قالَ بَل سَوَّلَت لَكُم أَنفُسُكُم أَمرًا ۖ فَصَبرٌ جَميلٌ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَأتِيَنى بِهِم جَميعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ العَليمُ الحَكيمُ
83
کہا تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا، تو اچھا صبر ہے، قریب ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا، ملائے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے
 
 
وَتَوَلّىٰ عَنهُم وَقالَ يـٰأَسَفىٰ عَلىٰ يوسُفَ وَابيَضَّت عَيناهُ مِنَ الحُزنِ فَهُوَ كَظيمٌ
84
اور ان سے منہ پھیرا اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں وہ غصہ کھا تا رہا
 
 
قالوا تَاللَّهِ تَفتَؤُا۟ تَذكُرُ يوسُفَ حَتّىٰ تَكونَ حَرَضًا أَو تَكونَ مِنَ الهـٰلِكينَ
85
بولے خدا کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گور کنارے جا لگیں یا جان سے گزر جائیں
 
 
قالَ إِنَّما أَشكوا بَثّى وَحُزنى إِلَى اللَّهِ وَأَعلَمُ مِنَ اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ
86
کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے
 
 
يـٰبَنِىَّ اذهَبوا فَتَحَسَّسوا مِن يوسُفَ وَأَخيهِ وَلا تَا۟يـَٔسوا مِن رَوحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لا يَا۟يـَٔسُ مِن رَوحِ اللَّهِ إِلَّا القَومُ الكـٰفِرونَ
87
اے بیٹو! جا ؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ
 
 
فَلَمّا دَخَلوا عَلَيهِ قالوا يـٰأَيُّهَا العَزيزُ مَسَّنا وَأَهلَنَا الضُّرُّ وَجِئنا بِبِضـٰعَةٍ مُزجىٰةٍ فَأَوفِ لَنَا الكَيلَ وَتَصَدَّق عَلَينا ۖ إِنَّ اللَّهَ يَجزِى المُتَصَدِّقينَ
88
پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی اور ہم بے قدر پونجی لے کر آئے ہیں تو آپ ہمیں پورا ناپ دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے بیشک اللہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے
 
 
قالَ هَل عَلِمتُم ما فَعَلتُم بِيوسُفَ وَأَخيهِ إِذ أَنتُم جـٰهِلونَ
89
بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے
 
 
قالوا أَءِنَّكَ لَأَنتَ يوسُفُ ۖ قالَ أَنا۠ يوسُفُ وَهـٰذا أَخى ۖ قَد مَنَّ اللَّهُ عَلَينا ۖ إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصبِر فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ المُحسِنينَ
90
بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا
 
 
قالوا تَاللَّهِ لَقَد ءاثَرَكَ اللَّهُ عَلَينا وَإِن كُنّا لَخـٰطِـٔينَ
91
بولے خدا کی قسم! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاوار تھے
 
 
قالَ لا تَثريبَ عَلَيكُمُ اليَومَ ۖ يَغفِرُ اللَّهُ لَكُم ۖ وَهُوَ أَرحَمُ الرّٰحِمينَ
92
کہا آج تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے
 
 
اذهَبوا بِقَميصى هـٰذا فَأَلقوهُ عَلىٰ وَجهِ أَبى يَأتِ بَصيرًا وَأتونى بِأَهلِكُم أَجمَعينَ
93
میرا یہ کرتا لے جاؤ اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آ ؤ
 
 
وَلَمّا فَصَلَتِ العيرُ قالَ أَبوهُم إِنّى لَأَجِدُ ريحَ يوسُفَ ۖ لَولا أَن تُفَنِّدونِ
94
جب قافلہ مصر سے جدا ہوا یہاں ان کے باپ نے کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پا تا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ (بہک) گیا ہے
 
 
قالوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفى ضَلـٰلِكَ القَديمِ
95
بیٹے بولے خدا کی قسم! آپ اپنی اسی پرانی خود رفتگی میں ہیں
 
 
فَلَمّا أَن جاءَ البَشيرُ أَلقىٰهُ عَلىٰ وَجهِهِ فَارتَدَّ بَصيرًا ۖ قالَ أَلَم أَقُل لَكُم إِنّى أَعلَمُ مِنَ اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ
96
پھر جب خوشی سنانے والا آیا اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے
 
 
قالوا يـٰأَبانَا استَغفِر لَنا ذُنوبَنا إِنّا كُنّا خـٰطِـٔينَ
97
بولے اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بیشک ہم خطاوار ہیں
 
 
قالَ سَوفَ أَستَغفِرُ لَكُم رَبّى ۖ إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ
98
کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہو ں گا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے
 
 
فَلَمّا دَخَلوا عَلىٰ يوسُفَ ءاوىٰ إِلَيهِ أَبَوَيهِ وَقالَ ادخُلوا مِصرَ إِن شاءَ اللَّهُ ءامِنينَ
99
پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو اللہ چاہے تو امان کے ساتھ
 
 
وَرَفَعَ أَبَوَيهِ عَلَى العَرشِ وَخَرّوا لَهُ سُجَّدًا ۖ وَقالَ يـٰأَبَتِ هـٰذا تَأويلُ رُءيـٰىَ مِن قَبلُ قَد جَعَلَها رَبّى حَقًّا ۖ وَقَد أَحسَنَ بى إِذ أَخرَجَنى مِنَ السِّجنِ وَجاءَ بِكُم مِنَ البَدوِ مِن بَعدِ أَن نَزَغَ الشَّيطـٰنُ بَينى وَبَينَ إِخوَتى ۚ إِنَّ رَبّى لَطيفٌ لِما يَشاءُ ۚ إِنَّهُ هُوَ العَليمُ الحَكيمُ
100
اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب اس کے لیے سجدے میں گرے اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی، بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے
 
 
۞ رَبِّ قَد ءاتَيتَنى مِنَ المُلكِ وَعَلَّمتَنى مِن تَأويلِ الأَحاديثِ ۚ فاطِرَ السَّمـٰوٰتِ وَالأَرضِ أَنتَ وَلِيّۦ فِى الدُّنيا وَالـٔاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنى مُسلِمًا وَأَلحِقنى بِالصّـٰلِحينَ
101
اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قرب خاص کے لائق ہیں
 
 
ذٰلِكَ مِن أَنباءِ الغَيبِ نوحيهِ إِلَيكَ ۖ وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ أَجمَعوا أَمرَهُم وَهُم يَمكُرونَ
102
یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے
 
 
وَما أَكثَرُ النّاسِ وَلَو حَرَصتَ بِمُؤمِنينَ
103
اور اکثر آدمی تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے
 
 
وَما تَسـَٔلُهُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ ۚ إِن هُوَ إِلّا ذِكرٌ لِلعـٰلَمينَ
104
اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہ مانگتے یہ تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت
 
 
وَكَأَيِّن مِن ءايَةٍ فِى السَّمـٰوٰتِ وَالأَرضِ يَمُرّونَ عَلَيها وَهُم عَنها مُعرِضونَ
105
اور کتنی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں
 
 
وَما يُؤمِنُ أَكثَرُهُم بِاللَّهِ إِلّا وَهُم مُشرِكونَ
106
اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے
 
 
أَفَأَمِنوا أَن تَأتِيَهُم غـٰشِيَةٌ مِن عَذابِ اللَّهِ أَو تَأتِيَهُمُ السّاعَةُ بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ
107
کیا اس سے نڈر ہو بیٹھے کہ اللہ کا عذاب انہیں آکر گھیر لے یا قیامت ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو
 
 
قُل هـٰذِهِ سَبيلى أَدعوا إِلَى اللَّهِ ۚ عَلىٰ بَصيرَةٍ أَنا۠ وَمَنِ اتَّبَعَنى ۖ وَسُبحـٰنَ اللَّهِ وَما أَنا۠ مِنَ المُشرِكينَ
108
تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں ۰ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے اور میں شریک کرنے والا نہیں
 
 
وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِجالًا نوحى إِلَيهِم مِن أَهلِ القُرىٰ ۗ أَفَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عـٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۗ وَلَدارُ الـٔاخِرَةِ خَيرٌ لِلَّذينَ اتَّقَوا ۗ أَفَلا تَعقِلونَ
109
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے تو یہ لوگ زمین پرچلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں
 
 
حَتّىٰ إِذَا استَيـَٔسَ الرُّسُلُ وَظَنّوا أَنَّهُم قَد كُذِبوا جاءَهُم نَصرُنا فَنُجِّىَ مَن نَشاءُ ۖ وَلا يُرَدُّ بَأسُنا عَنِ القَومِ المُجرِمينَ
110
یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا
 
 
لَقَد كانَ فى قَصَصِهِم عِبرَةٌ لِأُولِى الأَلبـٰبِ ۗ ما كانَ حَديثًا يُفتَرىٰ وَلـٰكِن تَصديقَ الَّذى بَينَ يَدَيهِ وَتَفصيلَ كُلِّ شَىءٍ وَهُدًى وَرَحمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ
111
بیشک ان کی خبروں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں لیکن اپنوں سے اگلے کاموں کی تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت